Home Editorial (اشتراکیت ۔ سوشلزم از کارل مارکس (کریمی

(اشتراکیت ۔ سوشلزم از کارل مارکس (کریمی

0 0

             ( اشتراکیت ۔ سوشلزم از کارل مارکس               ( قلم کار : غلام نبی کریمی
          کارل مارکس 5 مئی 1818 کو جرمنی (پرشیا) میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے جرمن فلسفی ہیگل سے خاصا اثر قبول کیا، تاہم ان کے یہ پیش کیا کہ تاریخ کا مطالعہ علم کی حیثیت سے مادپرستی کے تناظر میں کرنا چاہئے۔ مارکس کا خیال تھا کہ ایک نہ ایک دنیا اس حقیقت کو تسلیم کرلے گی کہ محنت کش طبقے ہی کو حکمرانی کا حق حاصل ہے۔ فریڈرک اینجلز کے ساتھ مل کر مارکس نے 1848 میں اشتراکیت کا منشور پیش کیا۔ اس کتاب کو عالمگیر شہرت حاصل ہوئی۔ لندن میں جلا وطنی کی زندگی گزارنے کے دوران کارل مارکس نے نیو یارک ٹربیون اور دیگر اخبارات و جرائد کے لیے مضامین لکھ کر گزر بسر کی۔ مارکس کا شمار معاشی تاریخ کے بانیوں میں ہوتا ہے۔ ان کا انتقال 14 مارچ 1883 کو لندن میں ہوا اور وہیں مدفون ہیں۔

 

         کارل مارکس نے جرمن میں تو گویا انقلاب برپا ہوگیا۔ 1867 میں شائع ہونے والی اس کتاب میں سرمایہ دارانہ نظام کا ناقدانہ جائزہ لیا گیا ہے۔ مارکس کی زندگی میں اس کتاب کی پہلی جلد شائع ہوئی تھی۔ دوسری اور تیسری جلد کا مواد تیار تھا۔ مارکس کے دوست فریڈرک اینجلز نے 1885 اور  1894میں دوسری اور تیسری جلد شائع کی۔ چوتھی جلد کارل کوٹسکی نے 1905-1910 میں شائع کی۔ کارل مارکس نے اس بات کو تصریحا بیان کیا ہے کہ کس طور سرمایہ دارانہ نظام میں معاشی سرگرمیاں جاری رہتی ہیں اور کس طرح اہل سرمایہ معاشرے کے دیگر تمام طبقات کا استحصال کرتے ہیں۔
      داس کیپٹال کا بنیادی تصور
      کارل مارکس نے اس بات کو زور دے کر بیان کیا کہ سرمایہ دارانہ معاشی نظام میں مزدور کا استحصال بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ جب تک استحصال کا سلسلہ نہیں رکے گا، تب تک معاشرے میں مجموعی طور پر اصلاح احوال کی صورت بھی نمودار نہ ہوسکے گی۔ کارل مارکس کا استدلال یہ بھی تھا کہ مزدور کا استحصال کیے بغیر سرمایہ دارانہ معاشرہ چل نہیں پاتا۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ آجر کسی بھی شے کی تیاری کے عوض مزدور کو اس کی محنت کی مارکیٹ ویلیو کے حساب سے ادائیگی کرتا ہے مگر دوسری طرف وہ مصنوعات کو خاصی بلند قیمت پر فروخت کرکے سارا منافع اپنی جیب میں ڈال لیتا ہے۔ اس سے ایک قدم آگے جاکر سرمایہ دار طبقہ بہت سی اشیا کی مارکیٹ ویلیو بھی خود ہی مقرر کرتا ہے۔ آجر چونکہ پیداواری ذرائع اور آلات پر قابض اور متصرف ہے اس لیے اپنی مرضی کے مطابق منافع بٹور سکتا ہے، اور بٹورتا ہے۔ ہر معاشرے میں یہی ہوتا رہا ہے۔ جہاں خواندگی کی شرح اور شعور کا معیار بلند ہو وہاں مزدوروں کا استحصال آسان نہیں ہوتا، تاہم اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اس کا استحصال کیا ہی نہیں جاتا۔ ہاں، ایسے معاشروں میں استحصال کے طریقے مختلف ہوتے ہیں۔ محنت کش طبقہ چونکہ اپنے حق سے بہت کم پاتا ہے اس لیے اس کی محنت سرمایہ دارانہ نظام کو مزید مستحکم کرنے کا باعث بنتی ہے۔ نتیجتا مزدور کمزور تر اور سرمایہ دار مستحکم تر ہوتا چلا جاتا ہے۔ یہ چیز معاشرے میں اچھی خاصی خرابی پیدا کرتی ہے۔
    کارل مارکس نے اپنی کتاب میں معیشت کے سماجی پہلو پر عمدہ بحث کی ہے اور اس کا بنیادی سبب یہ ہے کہ وہ معاشرے میں عمومی فلاح کے تصور کو غیر معمولی وقعت دیتے ہیں، تاہم اس کے باوجود ہم اسے اخلاقی اصولوں پر مبنی کتاب قرار نہیں دے سکتے۔ مارکس کی خواہش تھی کہ دنیا میں کسی بھی انسان کا استحصال نہ کیا جائے، اور ایسے حالات پیدا ہی نہ ہوں جن میں لوگ ایک دوسرے کا استحصال کریں۔ اس قسم کے خیالات پر عمل کے لیے ایسی حکومت درکار ہوا کرتی ہے جو ان خیالات کی افادیت پر یقین رکھتی ہے۔ کارل مارکس کی زندگی میں اس نظریے پر عمل اس لیے ممکن نہ ہوسکا کہ کوئی بھی حکومت ایسا کرنے کی پوزیشن میں نہ تھی اور پھر اشتراکیت کے لیے لوگوں کو نفسیاتی طور پر تیار کرنے کی بھی ضرورت تھی۔ کسی بھی انقلابی نظریے کو عمل کی دنیا میں پیش کرنے کے لیے پہلے لوگوں کو تیار کرنا پڑتا ہے۔ اس کتاب میں مارکس کا اصل موضوع معیشت ہے۔ کارل مارکس ماہر معاشیات سے کہیں بڑھ کر حقیقی مفہوم میں فلسفی تھے۔ انہوں نے ثابت کیا کہ فلسفی وہ ہے جو دنیا کو سمجھنے ہی کی کوشش نہ کرے، بلکہ اسے تبدیل کرنے پر بھی توجہ دے۔ انہوں نے سرمایہ داری پر مشتمل نظام کو تمام معاشرتی خرابیوں کی بنیاد قرار دیا ہے اور ایک ایسے معاشرے کا خواب اپنے قارئین کی آنکھوں کو بخشا ہے جس میں تمام انسان برابر ہوں اور کسی بھی معاشرے کے تمام افراد ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے بجائے مل کر معیاری زندگی بسر کرنے کو ترجیح دیتے ہوں۔ کتاب میں سرمائے اور اس کے تفاعل کو بنیاد بناکر بحث کی گئی ہے۔ معاشرے میں سرمایہ جو کردار ادا کرتا ہے وہ اظہر من الشمس ہے۔ جس کے پاس سرمایہ ہوتا ہے وہی اپنی بات منوانے کی پوزیشن میں ہوتا ہے۔ سرمائے کے کردار پر کارل مارکس نے اس قدر جامع بحث کی ہے کہ پڑھنے والا داد دیئے بغیر رہ نہیں سکتا۔ کتاب میں سرمائے کے مختلف پہلو اس انداز سے بیان کیے گئے ہیں کہ قاری پر بے نقاب ہوتے چلے جاتے ہیں۔ محنت، سرمائے اور زمین کے تفاعل اور آجر کے کردار پر ایسی وقیع بحث بہت کم پڑھنے کو ملی ہے۔ سرمایہ دارانہ نظام معیشت کی فطری سرگرمیوں پر مشتمل ہے۔ اگر معاشی سرگرمیوں کو کسی بھی اعتبار سے کنٹرول نہ کیا جائے تو کسی بھی معاشرے میں سرمایہ دارانہ نظام کا پنپنا عین فطری امر ہے۔ مگر جب معاملات کو کنٹرول نہیں کیا جاتا تو دولت چند ہاتھوں میں سمت جاتی ہے۔ دولت یا معاشی پیداوار کے ذرائع کا اس طور چند ہاتھوں میں مرتکز ہوجانا معاشرے کے اکثریتی طبقے کے لیے انتہائی پریشان کن ثابت ہوتا ہے کیونکہ اس صورت میں وہ معیاری زندگی بسر کرنے کے قابل نہیں رہتا۔ کارل مارکس نے ایک ایسے معاشرے کا خواب دیکھا تھا جس میں تمام افراد کو معاشی سرگرمیوں میں پوری قوت کے ساتھ حصہ لینے کا موقع ملے اور وہ ملک کی ترقی میں اپنا کردار بھرپور انداز سے ادا کریں۔ اس صورت میں بے روزگاری کے مسئلے پر احسن طریقے سے قابو پایا جاسکتا ہے، کیونکہ معاشرے کے ہر فرد کو معاشی سرگرمیوں میں حصہ لینے کا موقع فراہم کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے۔ ریاست اس فرض کو کس طور ادا کرتی ہے، یہ دیکھنا باقی تھا۔ مارکس کے نظریات کی بنیاد پر روس میں انقلاب برپا ہوا، زار کی حکومت کا خاتمہ ہوا اور ایک ایسی ریاست معرض وجود میں آئی جس میں ہر فرد کو معیشت میں اپنا کردار ادا کرنا تھا۔ یہ سب کچھ آسان نہ تھا، اس لیے جبر سے بھی کام لیا گیا۔ روس نے پڑوسی ریاستوں کو ملاکر سوویت یونین تشکیل دی۔ یہ خاصا منفرد تجربہ تھا۔ اشتراکیت کو ایک ٹھوس نظریے کے طور پر پیش کیا جانے لگا۔ یہ نظریہ کارل مارکس کا دیا ہوا ہے، تاہم اس پر عمل بیسویں صدی کے اوائل میں کیا گیا۔ مشرقی یورپ نے اشتراکیت کو تیزی سے قبول کیا۔ اس کا ایک سبب یہ بھی تھا کہ ان علاقوں میں ترقی کم ہوئی تھی۔ مغربی یورپ نے اپنے آپ کو مستحکم کرنے کے بعد عالمی معیشت میں بھی فعال کردار ادا کرنا شروع کردیا تھا۔ اس کے نتیجے میں مشرقی اور مغربی یورپ کے مابین فاصلے بڑھتے چلے گئے۔ مارکس نے لکھا تھا کہ وہ ایک ایسے معاشرے کا خواب دیکھتے ہیں جس میں مساوات بنیادی نظریہ ہو۔ علاوہ ازیں وہ یہ بھی چاہتے تھے کہ سیاست اور معیشت کے وقیع موضوع کو علمی انداز سے پیش کیا جائے تاکہ لوگ ان کے بارے میں اپنے خیالات درست کرسکیں۔
      داس کیپٹل” ایک ایسی کتاب ہے جس کا مطالعہ انسان کے ذہن کی بہت سی گتھیوں کو سلجھانے میں غیر معمولی معاونت کرسکتا ہے۔ جو لوگ دنیا میں کسی بھی نئے نظریے اور انقلاب کی گنجائش محسوس نہیں کرتے، ان کے لیے ”داس کیپٹل” خیالات بدلنے والی کتاب ثابت ہوسکتی ہے۔
      جن لوگوں نے زمانے کی سمت بدلی ہے ان میں کارل مارکس بھی نمایاں ہیں۔ مارکس کا شمار ان فلسفیوں میں ہوتا ہے جن کی سوچ نے کئی نسلوں کو متاثر کیا ہے اور یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے۔ نظریات دینے والے تو بہت سے ہیں، مگر کسی نظریے کو خالص علمی انداز سے پیش کرکے انقلاب کی راہ ہموار کرنے والے خال خال ہی دکھائی دیتے ہیں۔ مارکس نے تاریخ کو خالص علمی انداز سے پیش کیا اور اس تصور کو تقویت فراہم کی کہ انسان کی تمام مساعی کی پشت پر کوئی نہ کوئی مفاد کارفرما ہوتا ہے۔

Comments

comments

Review overview
میں اور میرا قلم۔ اپنے ارد گرد یا معاشرے میں جاری جبر یا زیادتیوں یا تاریخ کے خوبصورت، عبرت ناک اور سبق اموز واقعات کو قلم بند کر کے اسے باقی دنیا تک پہنچانا بیشک میں اسے ایک قسم کا جہاد سمجھتا ہوں یہ جہاد جس سے ہمارے موجودہ اور آنے والی نسلیں کافی حد تک محفوظ اور خوشحال رہ سکتے ہیں۔ بندہ مزدور اور غیور لوگوں کی آوازیں دنیا تک پہنچانا ایک سخت مگر پر افتخار عمل ہے جس کے لئے ہر دور میں مزدوروں اور دلیر انسانوں نے مشکالات کا مقاملہ کیا۔ مختصراً یہ کہہ میں عہد کیا ہے خود سے کہ قلم میرا چلتا رہے گا۔۔۔ غلام نبی کریمی

SIMILAR ARTICLES

NO COMMENTS

Leave a Reply