Home Editorial بھگت سنگھ ایک عظیم انقلابی اور ہیرو

بھگت سنگھ ایک عظیم انقلابی اور ہیرو

0 0

(  تحریر: لا ل خان    بشکریہ سٹراگل ڈاٹ کام          (  کاوش : غلام نبی کریمی 23

  مارچ  1931ء کو برطانوی سامراج اور سرمایہ داری سے برِ صغیرِہند کے عوام کی آزادی اور نجات کے انقلابی ہیرو بھگت سنگھ اور اس جدوجہد میں شریک اس کے کامریڈوں سکھ دیو تھاپر اور شیوا رامراج گرو کو لاہور سینٹرل جیل میں تختہ دار پرلٹکا دیا گیا تھا۔برطانوی سامراجی حکومت اپنے خلاف عوامی تحریک میں بائیں بازو کے ریڈیکل رجحان کے ابھرنے سے بہت خوفزدہ تھی۔ ان نوجوان انقلابیوں کو تو موت کی نیند سلا دیا گیا لیکن ان کے قتل کے بعد ابھرنے والے عوامی غم و غصے اور بغاوت نے نو آبادیاتی حکومت کو ہلا کر رکھ دیا۔ ہندوستان کی صورتحال کے متعلق 1932ء میں یہاں آئے ہوئے ایک برطانوی پادری سی ایف اینڈریوز نے لکھا کہ ’’ ہندوستان کی موجودوہ کیفیت انیس سو سال قبل کی سلطنتِ روم جیسی ہے۔ وہاں بھی ظاہری طور پر ایسا ہی شاندار امن قائم تھا،لیکن بظاہر پر امن نظر آنے والےاس علاقے کے اندر ایک سلگتا ہوا خلفشار یک دم آتش فشانی لاوے کی طرح دھرتی کو پھاڑکر باہر آنا شروع ہو گیا ہے‘‘۔

1917ء میں روس میں ہونے والے بالشویک انقلاب نے ہندوستان کی تحریک آزادی کو بہت متاثر کیا اور ساری دنیا کی طرح یہاں بھی اس کے بہت بڑے اثرات مرتب ہوئے۔ خصوصاً نوجوان اس انقلابی ابھار سے بہت متحرک ہوئے۔ ہندوستان سوشلسٹ ریولوشنری آرمی (ایچ ایس آر اے)   کا قیام سماجی شعور میں آتی ہوئی تبدیلی کا اظہار تھا۔ بھگت سنگھ، سکھ دیو، راج گرو، چندر شیکھر آزاد، بی کے دت اور دیگر نوجوان انقلابیوں کے جرات مند کارناموں نے پورے برِ صغیر میں محکوم عوام کو جھنجوڑ کر رکھ دیا،لیکن ایک مارکسسٹ لینن اسٹ پارٹی کی عدم موجودگی میں انقلاب کے لئے سائنسی لائحہ عمل نہ مل پانے کی وجہ سے ان نوجوانوں نے مسلح جدوجہد اور انفرادی دہشت گردی کا طریقہ اختیار کیا۔

لاہور ریلوے اسٹیشن پر سائمن کمیشن کے خلاف مظاہرہ کرتے ہوئے کسانوں کے ریڈکل رہنما لالہ لجپت رائے پر پولیس کے بہیمانہ تشدد اور شدید زخمی کرنے کے بعد واقعات کے اس سلسلے کا آغاز ہوا۔ 17  نومبر  1928ء کو وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسے۔ انتقاماً ایچ ایس آر اے کے چند مسلح کارکنان نے 8  اپریل 1929ء کو اسسٹنٹ سپریٹنڈنٹ پولیس جان پویانٹس سانڈرز کو گولی مار کر قتل کر دیا۔ بھگت سنگھ اور دوسرے کامریڈوں کو اس قتل اور دہلی میں مرکزی قانون ساز اسمبلی کے سرکاری بنچوں پر احتجاجاًبے ضرر بم پھینکنے کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا۔ پانچ ماہ تک ان پر مقدمہ چلایا گیا جس کی کاروائی کے دوران ملزمان کے انقلابی بیانات نوجوانوں کو گرما تے رہے اور ان کی تحریک کو عوامی حمایت حاصل ہو گئی۔ اس سے نہ صرف سامراجی اقتدار کے ایوان بلکہ نام نہاد آزادی پسند مقامی بورژوا لیڈران بھی لرز اٹھے جو خوفزدہ تھے کہ اس ریڈیکل رجحان کے ہاتھوں وہ جدوجہدِ آزادی کی قیادت سے باہر ہو جائیں گے۔

اکتوبر  1930ء کو جسٹس اے آر کولڈ سٹریم نے فیصلہ سنا دیا۔ حکومت نے لاہور سازش کیس آرڈیننس جاری کیا جس کی رو سے سماعت کے دوران وکیلِ صفائی، گواہان اور ملزمان کی موجودگی کی ضرورت ختم کر دی گئی۔ شواہد سے ثابت ہوتا ہے کہ ’عدم تشدد کا علمبردار‘گاندھی اس وقت کے برطانوی وائسرائے لارڈ اروِن کے ساتھ مذاکرات اور معاہدے کے دوران رحم کی اپیل کر کے ان انقلابیوں کی زندگیاں بچا سکتا تھا۔ گاندھی اروِن معاہدہ19 مارچ 1931ء کو طے پایا جس میں تیج بہادر سپرو اوردیگر نے ثالثی کا کردار ادا کیا۔ عوام میں اس معاہدے کے خلاف شدید نفرت اور غصہ تھا کیونکہ اس میں بھگت سنگھ، راج گرو اور سکھ دیو کو نظر انداز کر دیا گیا تھا۔ کانگریس کے اہم رہنما ڈاکٹر سبھاش چندر بوس نے انتہائی غصے کے عالم میں کہا کہ’’ہمارے اور برطانویوں کے درمیان خون کا ایک دریا اور لاشوں کا ایک پہاڑ کھڑا ہے۔ گاندھی کی جانب سے کیے گئے سمجھوتے کو ہم کسی صورت قبول نہیں کر سکتے۔‘‘ گاندھی اور اروِن کی ملاقات کے دن بھگت سنگھ اور اس کے ساتھیوں نے وائسرائے کو ایک خط بھیجا۔ رحم کی اپیل کی بجائے انہوں نے جنگی قیدیوں جیسے سلوک اور پھانسی کی بجائے گولی کے ذریعے موت کا مطالبہ کیا۔ بعد ازاں کراچی میں ہونے والی آل انڈیا کانگریس کمیٹی (اے آئی سی سی)کے اجلاس میں یہ نعرہ لگتا رہا کہ ’’ گاندھی کے معاہدے نے بھگت سنگھ کو مار ڈالا‘‘۔

بھگت سنگھ کی شہادت کی کئی دہائیوں بعد ہندوستان اور پاکستان میں منظرِ عام پر موجود دانشوروں اور سیاسی اشرافیہ نے اس کی میراث کو مسخ کر دیا ہے۔ پاکستان میں ماضی پرست ریاستی قوتوں اور قدامت پرست اشرافیہ نے اسے ’کافر‘ قرار دے کر اس کے حقیقی نظریات پر پردہ ڈالنے کی ہر ممکن کوشش کی۔ ہندوستان میں اس کے تشخص کو ایک حریت پسند قوم پرست تک محدود کر دیا گیا ہے اور اس کے سوشلسٹ اور انقلابی کردار کو داغدار اور مسخ کیا گیا ہے۔ اگرچہ برطانوی راج کے خلاف جدوجہد کے آغاز سے ہی بھگت سنگھ کوئی مارکسسٹ نہیں تھا، لیکن مسلح جدوجہد کے تجربات اور مارکس، اینگلز، لینن اور ٹراٹسکی کو پڑھنے کے بعد رفتہ رفتہ وہ بالشویزم اورانقلابی سوشلزم کے قریب آچکا تھا۔ بھگت سنگھ آرکایؤز میں ایک اخباری رپورٹ موجود ہے جس میں لکھا ہے کہ’’21  جنوری  1930ء کو لاہور سازش کیس کے ملزمان کو عدالت میں پیش کیا گیا جنہوں نے سر پر سرخ پٹیاں باندھ ررکھی تھیں۔ مجسٹریٹ کے بیٹھتے ہی وہ نعرے لگانا شروع ہو گئے کہ ’لینن کا نام امر ہے‘ اور’سامراج مردہ باد‘۔ پھر بھگت سنگھ نے عدالت میں ایک ٹیلی گرام کا متن پڑھا اور مجسٹریٹ سے مطالبہ کیا کہ اسے تیسری انٹر نیشنل کو ارسال کیا جائے‘‘۔ شری رام بخشی نے اپنی کتاب ’بھگت سنگھ اور اس کا نظریہ‘ میں بھگت سنگھ کا قول لکھا ہے کہ’ ’انقلاب سے ہماری مراد ایک ایسے سماجی نظام کا قیام ہے جس میں پرولتاریہ کا اقتدار تسلیم ہو اور ایک عالمگیر فیڈریشن کے ذریعے نسلِ انسانی سرمایہ داری، مصائب اور سامراجی جنگوں کی غلامی سے آزادی پا لے۔ ‘‘

یہ اور ایسے کئی اور اقوال اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ بھگت سنگھ قوم پرست نہیں بلکہ عالمگیر یت کا داعی تھا۔ وہ مارکسی پوزیشن کے بہت قریب پہنچ چکا تھا اور اس کا ماننا تھا کہ بر صغیرِ ہند میں ایک سوشلسٹ انقلاب ہی تحریک آزادی کا منطقی انجام ہے۔ یہاں ایک سوشلسٹ فتح ساری دنیا میں انقلاب کے پھیلاؤ کا نکتہ آغاز ہو گی۔ بھگت سنگھ اوراس کے کامریڈوں کو مقامی اشرافیہ (جنہیں ’بھُورے صاحب‘ بھی کہا جاتا تھا) کے غداری پر مبنی کردار کے متعلق کوئی غلط فہمی نہ تھی۔ بہت تحقیق پر مبنی راج کمار سنتوشی کی 2002ء میں بننے والی فلم ’دی لیجنڈ آف بھگت سنگھ میں بھگت سنگھ تقریر میں کہتا ہے کہ’’ہمیں آزادی نہیں چاہیے! ہمیں ایسی آزادی نہیں چاہیے جہاں انگریز حکمرانوں کی جگہ مقامی اشرافیہ لے لیں۔ ہمیں ایسی آزادی نہیں چاہیے جس میں غلامی اور استحصال پر مبنی یہ بوسیدہ نظام قائم رہے۔ ہماری لڑائی ایسی آزادی کے لیے ہے جو اس ظالمانہ نظام کو ایک سوشلسٹ انقلاب کے ذریعے بدل کر رکھ دے۔ ‘‘ خونی تقسیم کے بعد نام نہاد آزادی کے پینسٹھ برسوں میں جنوبی ایشیا کے ان حکمران طبقات نے سماج کو تاراج اور کروڑوں عوام کو برباد کر ڈالا ہے۔ یہ مجبور طبقات استحصال، سامراجی لوٹ مار، مصائب،غربت اور بیماری کے ہاتھوں تباہ ہو گئے ہیں۔ نئی نسلوں کی یہ تاریخی ذمہ داری ہے کہ بھگت سنگھ کی انقلابی میراث کو پھر سے تلاش کرتے ہوئے اس مقصد کی تکمیل کریں جس کے لئے وہ جیا، لڑا اور اپنی جان قربان کی۔

Comments

comments

میں اور میرا قلم۔ اپنے ارد گرد یا معاشرے میں جاری جبر یا زیادتیوں یا تاریخ کے خوبصورت، عبرت ناک اور سبق اموز واقعات کو قلم بند کر کے اسے باقی دنیا تک پہنچانا بیشک میں اسے ایک قسم کا جہاد سمجھتا ہوں یہ جہاد جس سے ہمارے موجودہ اور آنے والی نسلیں کافی حد تک محفوظ اور خوشحال رہ سکتے ہیں۔ بندہ مزدور اور غیور لوگوں کی آوازیں دنیا تک پہنچانا ایک سخت مگر پر افتخار عمل ہے جس کے لئے ہر دور میں مزدوروں اور دلیر انسانوں نے مشکالات کا مقاملہ کیا۔ مختصراً یہ کہہ میں عہد کیا ہے خود سے کہ قلم میرا چلتا رہے گا۔۔۔ غلام نبی کریمی

SIMILAR ARTICLES

NO COMMENTS

Leave a Reply