Home Editorial کوئیٹہ شہر اور کالعدم تنظیموں کے حرکات

کوئیٹہ شہر اور کالعدم تنظیموں کے حرکات

0 0

تحریر : غلام نبی کریمی

کوئیٹہ شہر اور کالعدم تنظیموں کے حرکات

چند دن پہلے کی بات ہے کہ ملک بھر سے کالعدم جماعت سپاہ صحابہ کے صوبائی سربراہاں کوئیٹہ
آئیں اور ہمیشہ کی طرح اپنی قوت دیکھانے کو کوشش کی۔ اس دفعہ کوئیٹہ کے عین اور مصروف
شہراہ جوائنٹ روڈ پر مولوی اورنگ زیب فاروقی اوربلوچستان کے سرغنہ رمضان مینگل نے امیر معاویہ
چوک کا افتتاح کیا۔
آپ اس تصویر میں بخوبی دیکھ سکتے ہیں کہ بلکل ساتھ ہی ایف سی کی چیک پوسٹ ہے اور اسکے سامنے
کالعدم یعنی دہشت گرد جماعت کا جھنڈا بنا ہوا۔ اس تصویر کو دیکھنے سے کہی سوالات اٹھتے ہیں۔

کیا ہمارے سیکولر وزیر اعلیٰ کو علم نہیں ؟
کیا کالعدم سپاہ صحابہ اس قدر طاقت ور ہوچکی ہے کہ حکومت انکے سامنے بے بس ہے ؟
کسی کالعدم حماعت کو کس نے یہ حق دیا کہ وہ چوک کا افتتاح کرائے اور مرضی کا نام رکھے ؟
انتظامہ کہاں ہیں ؟

اگر بات صرف چوک تعمیر کرنے کی حد تک ہوتی تو شائد ہی ہم درگزر کر لیتے مگر کالعدم جماعت
کے یہ نمائندے سرے عام کافر کافر کے نعرے لگا کر شہر کوئیٹہ کو زہر آلود کر رہے ہیں۔ ہمیشہ
کی طرح باہر کے کسی مولوی کو بلا کر شہر کے اندرونی حالات کو خراب کرنے کی کوشش کی گئی۔
اس سے بھی چند دنوں پہلے کی بات ہے اسی کالعدم تنظیم نے اسرائیلی بربریت کے خلاف جلوس اور
ریلیاں نکالی۔ عین شہر کے بیچھ پہنچ کر انہوں نے کھلے عام کافر کافر کے نعرے بلند کئے۔
اب ان عقل کے دشمنوں سے کوئی پوچھے احتجاج اسرائیل کے خلاف اور نعرےایک فرقے کے خلاف۔

اس پر ڈاکڑ مالک کی انتظامیہ کہاں ہے ؟
ایک سیکولر وزیر اعلیٰ کی حکومت میں یہ مذہنی جنونی اس طرح سے تفرقہ پھیلا رہے ہیں ؟
ٹارگٹ کللنگ روکنا تو حکومت کے ہاتھ میں نہیں مگر کم از کم شہر کے اندر ان نفرتآمیز نعروں
لگانے والوں کو تو چارج کرو۔ آئینی اعتبار سے بھی یہ جائز نہیں کہ کوئی خاص فرقہ دوسرے فرقوں
کو خارج از دین کریں۔

ڈاکڑ مالک صاحب کو ان سوالات کے جوابات دینے ہوگے ، شاید یہ کالم ان تک نا پہنچے مگر یہ ہمارا فرض ہے
کہ ایک شدت پسند اور کالعدم تنظیم کے حرکات پر احتجاج کرے۔

ہمیشہ کی طرح اس مختصر کالم کا اختتام ایک شعر سے کر رہا ہوں۔

سینوں سے دیں نکل کر سیاست میں آگیا
ہر چوک پر ملاوں کا گھر دیکھ رہا ہوں { کریمی }

https://www.facebook.com/KarimiJaffary

Comments

comments

میں اور میرا قلم۔ اپنے ارد گرد یا معاشرے میں جاری جبر یا زیادتیوں یا تاریخ کے خوبصورت، عبرت ناک اور سبق اموز واقعات کو قلم بند کر کے اسے باقی دنیا تک پہنچانا بیشک میں اسے ایک قسم کا جہاد سمجھتا ہوں یہ جہاد جس سے ہمارے موجودہ اور آنے والی نسلیں کافی حد تک محفوظ اور خوشحال رہ سکتے ہیں۔ بندہ مزدور اور غیور لوگوں کی آوازیں دنیا تک پہنچانا ایک سخت مگر پر افتخار عمل ہے جس کے لئے ہر دور میں مزدوروں اور دلیر انسانوں نے مشکالات کا مقاملہ کیا۔ مختصراً یہ کہہ میں عہد کیا ہے خود سے کہ قلم میرا چلتا رہے گا۔۔۔ غلام نبی کریمی

SIMILAR ARTICLES

NO COMMENTS

Leave a Reply