Home Editorial یزید سے بھی مراسم، حسین کو بھی سلام

یزید سے بھی مراسم، حسین کو بھی سلام

0 4

بحیثیت قوم ( اس پربھی شکوک) ہم اس قدر کنفیوژن کا شکار ہوچکے ہیں کہ ہر گذرتا ہوا دن اور ہر واقعہ(سانحہ) ہمیں حیرانگی ، سراسیمگی ، انتشار اور مزید تباہی کی طرف لے جارہا ہے۔ اپنے 68 سالہ مختصر قومی تاریخ میں ہم نے اپنی نظریات اور اعمال کے قلابازیوں کے ایسی تاریخ رقم کی ہے کہ دنیا میں ایک بھی ریاست(اسلامی برادری بھی ) نہیں بچی ہے جو ہم پر اعتماد کرسکے ۔ جہاں تک قوموں کی بات ہے تو بدقسمتی سے اپنے ملک میں ہی موجود مختلف قومیتیں ایک دوسرے کے ساتھ دست و گریبان ہیں تو غیروں سے ہمدردی و بھائی چارے کی توقع کرنا بھی بے وفوقی ہوگی۔

ابھی دو ایسے تازہ واقعات رونما ہوچکے ہیں کہ جن پر ہمارا ردعمل نہ صرف مضحکہ خیز ہے بلکہ تضاد اور منافقت کا اعلیٰ شاہکار بھی۔ ایک طرف ملک کی دو بڑی جماعتیں جو کہ حکومت کی شکل میں ریاست پاکستان کی نمائندگی بھی کررہی ہیں طالبان سے مذاکرات کرنے کی تیاری میں لگے ہوئی تھیں اور زمینی حمایت سے لے کر الیکٹرانک میڈیاو سوشل میڈیا پر طالبان کی تعریفوں اور ان کے خلاف اٹھنی والی ہر آواز کو کفر کا درجہ دینے میں پوری طرح مگن تھیں کہ انہی طالبان نے چوہدری اسلم جو کہ پولیس کے محکمے میں ملازم تھے پر خود کش حملہ کردیا۔

اچانک میڈیا کو انگڑائی آئی ، حکومت کو جوش آگیا اور سوشل میڈیا کے پاک وطن کے پاک محب وطنوں نے چوہدری اسلم کو سرآنکھوںپر بٹھا دیا اور انہیں ایک ایسا ہیرو پیش کردیا کہ جیسے اس سے پہلے کسی پولیس اہلکار نے اپنی جان نہ دی ہو یا پھر کوئی پولیس والا طالبان کی گولی یا بموں سے مارا نہ گیا ہو۔ حالانکہ یہی چوہدری اسلم کرپشن اور پولیس گردی کے الزامات کی شدید زد میں بھی تھے۔ ان سب باتوں سے قطع نظر میری نظر میں چوہدری اسلم اس لیے ہیرو نہیں ہے کہ اسے طالبان نے قتل کیا بلکہ میرے لیے چوہدری اسلم اس لیے ہیرو ہے کہ وہ ریاست پاکستان کے اس ادارے کا ملازم تھا کہ جس کی ذمہ داری ہی یہی مقرر کی گئی ہے کہ وہ عوام کے جان و مال کی حفاظت کرے۔ (پاکستان کے علاوہ دنیا میں ہر ریاست کے تشکیل کا بنیادی جز ہی یہی ہے کہ وہ اپنے شہریوں کے جان ومال کی حفاظت کرے بغیر اس سوال کے کہ شہری نے ریاست کے لیے کون سا تیر مارا)۔

اسی طرح میرے لیے وہ اعتزاز بھی اس لیے ہیرو نہیں ہے کہ اس نے طالبان کی طرف سے بھیجے جانے والے خود کش حملہ آور کے عزائم کو ناکام بنادیا (کیونکہ ہر خود کش اِس والے خود کش حملہ آور کی طرح بد نصیب نہیں ہوسکتا کہ جس کے جنت کی راہ میں پھر کوئی اعتزاز حسین رکاوٹ بن جائے) ، میرے لیے اعتزاز حسین اس لیے ہیرو ہے کہ وہ ریاست پاکستان کا شہری تھا اور اس کا یہ بنیادی حق بھی تھا کہ وہ زندہ رہے ان کروڑوں پاکستانیوں کی طرح جو کہ زندہ رہنا چاہتے ہیں اور ایک اچھی اور بے خوف زندگی گزار ناچاہتے ہیں۔

کچھ عرصے تک یقیناً چوہدری اسلم بھی بھول جائیں گے اور اعتزاز حسین کا نام لینے والا بھی کوئی نہ ہوگا کیونکہ ایک دفعہ پھر ایک ڈرون حملہ کیا جائے گا اور پھر سے طالبان ہیرو بن جائیں گے اور وہی سلسلہ پھر سے شروع ہوگا جو کہ کئی عشروں سے چلتا آرہا ہے۔ پاکستانیوں کے لیے شاید عبرت کا کوئی سبق ابھی تک ایجاد ہی نہیں ہوا ہے بالکل اسی طرح کہ یہ پاک ملک پاک تو کجا، صحیح معنوں میں ایک ریاست بھی نہ بن سکی ہے اورنہ ہی اس قوم کوکوئی ایماندار لیڈر ہی میسر آسکا ہے لیکن چوہدری اسلم و اعتزاز حسین جیسے لوگوں کے لیے ضرور عبرت کا مقام ہونا چاہیے کہ اس ملک و قوم کے لیے اگر جان دے دی خوش قسمتی سے تو شہید تصور کیے جائو گے لیکن اگر غلطی سے بچ گئے(ملالہ یوسف زئی) تو غدار اور ایجنٹ کا لقب ریڈی میڈ گارمنٹ کی طرح ہر وقت تیارملے گا۔

Comments

comments

SIMILAR ARTICLES

NO COMMENTS

Leave a Reply