Home Editorial مسلمانوں کے نیوٹن اور جنونیوں کے رویے

مسلمانوں کے نیوٹن اور جنونیوں کے رویے

1 15

ہمارے ہاں ہیرو انکو مانا جاتا ہے جو جنونیت پر پورا پورا اتریں پاکستانی قوم {اکثر} کی ذہنیت تو دیکھئےکہ سینکڑوں اور ہزاروں انسانوں کے قاتلوں کو ہیرو سمجھ تو لیتے ہیں مگر جس انسان نے نا کسی کو تکلیف پہنچائی اور نا کسی کے عقیدے کو برا بھلا کہا اسکو جوتے مار مار کر ملک بدر کر دیا جاتا ہے  وجہ صرف اور صرف کہ اسکا تعلق اس  فرقے سے تعلق ہے جنکو بعد میں کافر قرار دیا گیا۔

معروف نوبل ایوراڈ انعام یافتہ سائنس دان ڈاکڑ عبدسلام کی بات کر رہاہوں  ۔جب کسی نے پوچھا کہ ڈاکڑ صاحب کیا آپ پاکستان سے ناراض ہے جو جلا وطنی اختی کرکے پاکستان چھوڑ آئے تو عظیم اور علمی ذہنیت رکھنے والے اسانسان نے کہا کہ میں نہیں پاکستان مجھ سے ناراض ہے۔  خیر اس بات کو چھوڑو کہ ہم نے ان عظیم انسان کے ساتھ کیا رویہ اختیار کیا اور جنہیں لوگ مسلمانوں کا نیوٹن کہا کرتے تھے ہم نے انکو ابوذر غفاری {ر} کی طرح  سے ملک بدر کرنے پر مجور کر دیا ۔

دنیا کی 36یونیورسٹیوں نے ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگریاں عطا کی تھیں اس کے علاوہ انہیں 22ممالک نے اپنے اعلیٰ اعزازات سے نوازا تھا، جن میں اردن کا نشان امن، گتھیری میڈل، آئن اسٹائن میڈل اور لومن سوف میڈل سرفہرست ہیںاستقلال، وینزویلا کا نشان اندرے بیلو ، اٹلی کا نشان میرٹ ، ہاپکنز پرائز، ایڈمز پرائز، ے

مجھے اس وقت سخت حیرانی ہوئی کہ جب ڈاکڑ عبدسلام پر غداری کا مقدمہ چلایا گیا اور ہر طرف سےان پر دشمن اسلام اور دشمن پاکستان کے فتوے لگے اور پیاز کے بھاو بکنے والے جنونی حضرات نےڈاکڑ عبدالسلام پر کیچڑ اچلانے میں کوئی کسر باقی نا رکھی۔ اب کھل کر بات کرنے کا موقع ہیں دوستوںکہ قادیانی ہونے کی وجہ سے ان کی شخصیت دنیائے اسلام خصوصاً پاکستان میں متنازعہ رہی ۔ جس کی وجہ سے ان پر پاکستان سے غداری کا بھی الزام رہا ۔

میں اگلے کالم پاکستان کے ان اشخاص کے مطلق  لکھوں نگا جنکوں ہمارے ہاں ہیرو مانا جاتا ہیں۔ جنکے ہاتھ ہزاروں معصوم لوگوں کے خون سے رنگین ہونےکباوجود انکو دین اور قوم کا سب سے بڑا محسنسمجھا جاتا ہے ۔

ہمیشہ  کی طرح اس کالم کا اختتام بھی حسن نثارکے اس خوبصورت شعر سے کرنا چاہوں نگا،۔

          اجرت نا ملے پھر بھی سامان اٹھانا ہے

          ہم خواب فروشوں کو نقصان اٹھانا ہے                حسن نثار

 

   

Comments

comments

میں اور میرا قلم۔ اپنے ارد گرد یا معاشرے میں جاری جبر یا زیادتیوں یا تاریخ کے خوبصورت، عبرت ناک اور سبق اموز واقعات کو قلم بند کر کے اسے باقی دنیا تک پہنچانا بیشک میں اسے ایک قسم کا جہاد سمجھتا ہوں یہ جہاد جس سے ہمارے موجودہ اور آنے والی نسلیں کافی حد تک محفوظ اور خوشحال رہ سکتے ہیں۔ بندہ مزدور اور غیور لوگوں کی آوازیں دنیا تک پہنچانا ایک سخت مگر پر افتخار عمل ہے جس کے لئے ہر دور میں مزدوروں اور دلیر انسانوں نے مشکالات کا مقاملہ کیا۔ مختصراً یہ کہہ میں عہد کیا ہے خود سے کہ قلم میرا چلتا رہے گا۔۔۔ غلام نبی کریمی

SIMILAR ARTICLES

1 COMMENT

Leave a Reply